وراثت کی تقسیم — مکمل اسلامی رہنمائی
قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں وراثت کی تقسیم، شرعی ورثاء کے حصے، وصیت، قرض، عول، رد، حجب اور چاروں فقہی مذاہب کے اہم احکام کی جامع اور آسان وضاحت
وراثت کی تقسیم کیا ہے؟
مختصر جواب
وراثت کی تقسیم وہ شرعی عمل ہے جس کے ذریعے کسی مسلمان کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ (چھوڑی گئی جائیداد اور مالی اثاثے) قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق اس کے قانونی ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسلامی فقہ میں اس نظام کو علم الفرائض کہا جاتا ہے، کیونکہ ہر وارث کا حصہ اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمایا ہے۔
اسلام نے وراثت کی تقسیم کو انسانی خواہش، خاندانی رسم و رواج یا معاشرتی روایات پر نہیں چھوڑا، بلکہ اسے ایک مکمل اور منصفانہ نظام کی صورت میں نازل فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں ورثاء کے حصے واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں تاکہ ہر حق دار کو اس کا حق ملے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
اگر کسی وارث کو جان بوجھ کر اس کے شرعی حصے سے محروم کیا جائے، یا ترکہ کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق تقسیم نہ کیا جائے، تو یہ صرف ایک خاندانی یا قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک شرعی ذمہ داری کی خلاف ورزی بھی ہے۔
اہم شرعی اصول: وراثت کے حصے خاندان، معاشرے یا مقامی رسم و رواج طے نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ کریم میں مقرر فرمائے ہیں۔ کسی وارث کے شرعی حصے میں اپنی مرضی سے کمی یا بیشی کرنا جائز نہیں۔
اسلام میں علم الفرائض کی اہمیت
اسلامی قانونِ وراثت کو علم الفرائض کہا جاتا ہے۔ لفظ "فرائض"، عربی کے لفظ "فرض" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ لازمی حصہ۔
اسی لیے وراثت کی تقسیم کو صرف مالی معاملہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کا ایک اہم حصہ ہے۔
اسلام نے وراثت کا نظام کیوں مقرر فرمایا؟
اسلام سے پہلے دنیا کے اکثر معاشروں میں وراثت طاقت، قبائلی رسم و رواج یا خاندان کے سربراہ کی مرضی کے مطابق تقسیم کی جاتی تھی۔ کمزور افراد، خصوصاً خواتین اور یتیم بچوں کو اکثر ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اسلام نے اس ناانصافی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک ایسا منصفانہ نظام عطا کیا۔
اس نظام کے چند بنیادی مقاصد یہ ہیں:
- ہر وارث کو اس کا شرعی حق دینا۔
- خاندان میں اختلافات اور تنازعات کو کم کرنا۔
- خواتین، بچوں اور کمزور ورثاء کے حقوق کا تحفظ کرنا۔
- ترکہ کی تقسیم کو انصاف، ذمہ داری اور شریعت کے مطابق انجام دینا۔
- مال کی تقسیم کو ذاتی پسند، دباؤ یا طاقت کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع رکھنا۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ قرآنِ کریم میں وراثت کے احکام براہِ راست بیان کیے گئے ہیں، جو اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں کہ وراثت کی تقسیم اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ نظام ہے، نہ کہ انسانی رائے کا معاملہ۔
اس رہنمائی میں آپ کیا سیکھیں گے؟
- وراثت کی تقسیم کے شرعی اصول
- قرآنِ کریم میں وراثت کے احکام
- ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے ادا کیے جانے والے حقوق
- قرض، تجہیز و تکفین اور وصیت کی شرعی ترتیب
- ہر وارث کا شرعی حصہ — بیٹے، بیٹی، والدین، شوہر، بیوی اور بہن بھائی
- عول، رد اور حجب جیسے اہم فقہی اصول
- چاروں سنی فقہی مذاہب کے نمایاں اختلافات
- اسلامی وصیت کے بنیادی احکام
- مسلمان خاندانوں میں ہونے والی عام غلطیاں
- وراثت سے متعلق اہم سوالات اور ان کے مستند جوابات
یہ رہنمائی کن افراد کے لیے مفید ہے؟
- اپنے خاندان میں وراثت کی صحیح شرعی تقسیم کرنا چاہتا ہو
- اسلامی قانونِ وراثت کو آسان زبان میں سمجھنا چاہتا ہو
- پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش یا دیگر اردو بولنے والے ممالک کے تناظر میں مستند معلومات حاصل کرنا چاہتا ہو
- اپنے خاندان کے ورثاء کے شرعی حصے معلوم کرنا چاہتا ہو
- اسلامی وصیت یا ترکہ کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہو
- فرائض کیلکولیٹر استعمال کرنے سے پہلے بنیادی اصول سمجھنا چاہتا ہو
اپنے خاندان کے ورثاء کے حصے معلوم کریں
اگر آپ کسی مخصوص خاندانی صورتحال میں وراثت کی تقسیم کا درست حساب معلوم کرنا چاہتے ہیں، تو FaraidHub کا مفت فرائض کیلکولیٹر چند لمحوں میں قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور متعلقہ فقہی اصولوں کے مطابق ہر وارث کا شرعی حصہ معلوم کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں
اپنے خاندان کی تفصیلات درج کریں اور فوری، درست اور مستند شرعی تقسیم معلوم کریں۔
🧮 کیلکولیٹر شروع کریں ←قرآنِ کریم میں وراثت کی تقسیم کا حکم کیا ہے؟
مختصر جواب
اسلامی وراثت کا نظام براہِ راست قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی آیات ۱۱، ۱۲ اور ۱۷۶ میں مختلف ورثاء کے حصے خود مقرر فرمائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وراثت کی تقسیم کسی خاندان، معاشرے یا فرد کا بنایا ہوا قانون نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ شرعی نظام ہے۔
وراثت کی تقسیم اسلام کے ان چند احکام میں سے ہے جن کی تفصیلات اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ کریم میں بیان فرمائی ہیں۔
اہم شرعی اصول: وراثت کے شرعی حصوں میں کوئی شخص اپنی مرضی سے تبدیلی نہیں کر سکتا۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ترکہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام کے مطابق کرے۔
سورۃ النساء میں وراثت کے احکام
آیت 11
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد اور والدین کے بنیادی حصے مقرر فرمائے ہیں۔
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے حصے کے برابر ہے۔" (سورۃ النساء: 11)
آیت 12
اس آیت میں شوہر، بیوی اور بعض بہن بھائیوں کے شرعی حصے بیان کیے گئے ہیں۔ اسی آیت میں یہ بنیادی اصول بھی واضح کیا گیا ہے کہ وراثت تقسیم کرنے سے پہلے وصیت اور قرض کی ادائیگی ضروری ہے۔
آیت 176
اس آیت میں کلالہ کے احکام بیان کیے گئے ہیں، یعنی ایسے شخص کی وراثت جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین۔
اللہ تعالیٰ نے وراثت کے حصے خود کیوں مقرر فرمائے؟
اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وراثت اکثر خاندانی اختلافات، مالی تنازعات اور ناانصافی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر حصے انسانوں کی رائے پر چھوڑ دیے جاتے تو طاقتور افراد کمزور ورثاء، خصوصاً خواتین، یتیموں اور بزرگ والدین کے حقوق آسانی سے سلب کر سکتے تھے۔
اسلام نے اس ناانصافی کا راستہ بند کرتے ہوئے ہر وارث کا حق پہلے ہی متعین کر دیا، تاکہ ترکہ کی تقسیم عدل، شفافیت اور شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ قرآنِ کریم میں وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں "حدود اللہ" قرار دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان مقرر کردہ حصوں میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرنا جائز نہیں۔
مسلمان خاندانوں میں عام غلط فہمیاں
وراثت کے بارے میں کئی غلط تصورات عام ہیں:
- خاندان کے بزرگ اپنی مرضی سے حصے تبدیل کر سکتے ہیں۔
- بیٹیاں اپنی خوشی سے حصہ چھوڑ دیں تو پہلے انہیں حق دینا ضروری نہیں۔
- کئی سال تک ترکہ تقسیم نہ کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔
- زبانی خاندانی معاہدہ شرعی تقسیم کی جگہ لے سکتا ہے۔
یاد رکھیں: کسی وارث کا شرعی حق اس کی مرضی کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی خاندان کی رضامندی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کا متبادل بن سکتی ہے۔
📖 مزید پڑھیں: سورۃ النساء میں وراثت کے احکام کی مکمل تشریح
وراثت تقسیم کرنے سے پہلے کن حقوق کی ادائیگی ضروری ہے؟
مختصر جواب
اسلامی شریعت کے مطابق ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنے سے پہلے تین حقوق ادا کرنا لازمی ہیں:
- میت کی تجہیز و تکفین کے اخراجات
- میت کے تمام قرضوں کی ادائیگی
- شرعی حدود کے اندر وصیت پر عمل
ان تینوں مراحل کی تکمیل کے بعد ہی باقی ماندہ ترکہ ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔
اہم شرعی اصول: ترکہ اس وقت تک ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا جب تک تجہیز و تکفین، قرض اور جائز وصیت کے حقوق ادا نہ کر دیے جائیں۔
پہلا مرحلہ: تجہیز و تکفین کے اخراجات
سب سے پہلے میت کے کفن، دفن اور تجہیز و تکفین کے ضروری اخراجات ترکہ سے ادا کیے جاتے ہیں۔ اسلام اس معاملے میں سادگی، وقار اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ فضول خرچی کی اجازت نہیں، مقصد میت کی باعزت تدفین ہے۔
مثال: اگر کسی شخص نے 10 لاکھ روپے کا ترکہ چھوڑا ہو اور تجہیز و تکفین پر 50 ہزار روپے خرچ ہوئے ہوں، تو وراثت کی تقسیم 10 لاکھ پر نہیں بلکہ باقی ماندہ رقم پر ہوگی۔
دوسرا مرحلہ: میت کے قرضوں کی ادائیگی
ان میں شامل ہو سکتے ہیں: کسی فرد سے لیا گیا قرض، بینک یا مالی ادارے کا قرض، بقایا مہر، واجب الادا مالی ذمہ داریاں اور دیگر شرعی یا قانونی قرض۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومن کی روح اس وقت تک معلق رہتی ہے جب تک اس کا قرض ادا نہ کر دیا جائے۔"
عام غلطی: بعض خاندان پہلے جائیداد تقسیم کر دیتے ہیں اور بعد میں قرض ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ شرعی ترتیب اس کے برعکس ہے۔ پہلے قرض ادا ہوگا، پھر وراثت تقسیم ہوگی۔
تیسرا مرحلہ: شرعی وصیت پر عمل
اگر میت نے اپنی زندگی میں شرعی اصولوں کے مطابق وصیت کی ہو تو قرض کی ادائیگی کے بعد اس پر عمل کیا جائے گا۔
- وصیت ترکہ کے ایک تہائی (⅓) سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
- کسی شرعی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں۔
- وصیت صرف ایسے افراد کے لیے ہو سکتی ہے جو شرعی وارث نہ ہوں۔
یاد رکھیں: وصیت وراثت کا متبادل نہیں ہے۔ وصیت صرف شریعت کی مقرر کردہ حدود کے اندر نافذ ہوتی ہے۔
خلاصہ: اسلامی وراثت کی تقسیم ہمیشہ اس ترتیب سے ہوگی: ① تجہیز و تکفین ← ② قرض کی ادائیگی ← ③ وصیت پر عمل ← ④ ورثاء میں ترکہ کی تقسیم
📖 مزید پڑھیں: وراثت تقسیم کرنے سے پہلے کن حقوق کی ادائیگی ضروری ہے؟
شرعی ورثاء کے حصے کیا ہیں؟
مختصر جواب
اسلام میں ہر شرعی وارث کا حصہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں مقرر فرمایا ہے۔ بعض ورثاء کے حصے مقرر (ذوی الفروض) ہوتے ہیں، جبکہ بعض ورثاء باقی ماندہ ترکہ (عصبہ) حاصل کرتے ہیں۔
کسی وارث کا حصہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انتقال کے وقت کون کون سے شرعی ورثاء موجود ہیں۔
اہم شرعی اصول: اسلامی وراثت میں کسی بھی وارث کا حصہ الگ سے طے نہیں کیا جا سکتا۔ ہر وارث کا حصہ دیگر موجود شرعی ورثاء کے ساتھ مل کر متعین ہوتا ہے۔
شرعی ورثاء کی بنیادی اقسام
1۔ ذوی الفروض
یہ وہ ورثاء ہیں جن کے حصے قرآنِ کریم یا سنتِ نبوی ﷺ میں واضح طور پر مقرر کر دیے گئے ہیں: شوہر، بیوی، والدہ، بعض صورتوں میں والد، بیٹی، پوتی، حقیقی بہن، اخیافی بہن اور دیگر مخصوص ورثاء۔ ان کے حصے نصف، چوتھائی، آٹھواں، دو تہائی، تہائی یا چھٹا حصہ ہو سکتے ہیں۔
2۔ عصبہ
عصبہ وہ ورثاء ہوتے ہیں جو ذوی الفروض کے حصے ادا ہونے کے بعد باقی ماندہ ترکہ حاصل کرتے ہیں: بیٹا، پوتا، والد (بعض حالات میں)، حقیقی بھائی اور دیگر قریبی مرد رشتہ دار۔
3۔ ذوی الارحام
اگر نہ ذوی الفروض موجود ہوں اور نہ عصبہ، تو بعض فقہی مذاہب میں دور کے رشتہ داروں (ذوی الارحام) کو وراثت ملتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ ہر رشتہ دار شرعی وارث نہیں ہوتا، اور ہر شرعی وارث کو ہر صورت میں ایک جیسا حصہ بھی نہیں ملتا۔ وراثت کی تقسیم ہمیشہ مکمل خاندانی صورتحال کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔
اپنے خاندان کے ورثاء کی قسم معلوم کریں
کیلکولیٹر خود بخود بتائے گا کہ آپ کے خاندان میں کون ذوی الفروض ہے اور کون عصبہ۔
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←بیٹی کا وراثت میں حصہ کیا ہے؟
مختصر جواب
اسلام میں بیٹی شرعی وارث ہے اور اسے وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ قرآنِ کریم نے بیٹی کا حصہ واضح طور پر مقرر فرمایا ہے۔
اہم شرعی اصول: بیٹی کو وراثت سے محروم کرنا یا اس پر حصہ چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالنا شرعاً جائز نہیں۔ اس کا حصہ اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمایا ہے۔
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے حصے کے برابر ہے۔" (سورۃ النساء: 11)
ایک بیٹی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو
اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو تو اسے ترکہ کا نصف (½) حصہ ملتا ہے۔
دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو
تمام بیٹیاں مل کر ترکہ کے دو تہائی (⅔) کی حق دار ہوتی ہیں، جو ان میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔
بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہوں
اس صورت میں ہر ایک بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ ملے گا۔ یہ فرق مالی ذمہ داریوں کی بنیاد پر ہے — اسلام میں خاندان کا نفقہ مرد کے ذمہ ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ اسلام نے بیٹی کو وراثت کا حق اس دور میں دیا جب دنیا کے بہت سے معاشروں میں خواتین کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔
مسلمان معاشروں میں ایک عام غلطی
بعض اوقات بیٹیوں کو یہ کہہ کر وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے: شادی کے وقت جہیز مل گیا تھا، بھائی جائیداد سنبھالیں گے، یا بیٹی نے زبانی طور پر اپنا حصہ چھوڑ دیا ہے۔ اسلامی شریعت میں ان میں سے کوئی بھی وجہ بیٹی کے شرعی حق کو ختم نہیں کرتی۔
یاد رکھیں: جہیز، تحائف یا شادی پر کیے گئے اخراجات وراثت کا متبادل نہیں ہیں۔ بیٹی کا شرعی حصہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔
| صورتحال | شرعی حصہ |
|---|---|
| ایک بیٹی، کوئی بیٹا نہیں | ½ |
| دو یا زیادہ بیٹیاں، کوئی بیٹا نہیں | ⅔ (مشترکہ) |
| بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہوں | ہر بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ |
📖 مزید پڑھیں: بیٹی کا وراثت میں حصہ | صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
بیٹے کا وراثت میں حصہ کیا ہے؟
مختصر جواب
اسلام میں بیٹا شرعی وارث ہے اور وراثت کی تقسیم میں اسے اہم مقام حاصل ہے۔ اگر میت کا ایک یا ایک سے زیادہ بیٹے موجود ہوں تو وہ مقررہ حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ ترکہ بطور عصبہ حاصل کرتے ہیں۔
اہم شرعی اصول: بیٹا عموماً عصبہ ہوتا ہے، یعنی مقررہ حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ ترکہ اس کا حق ہوتا ہے۔
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے حصے کے برابر ہے۔" (سورۃ النساء: 11)
اگر صرف ایک بیٹا ہو
مقررہ حصے ادا ہونے کے بعد باقی ماندہ ترکہ اسی بیٹے کو ملتا ہے۔
اگر ایک سے زیادہ بیٹے ہوں
باقی ماندہ ترکہ تمام بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگا۔
اگر بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہوں
ترکہ اس اصول کے مطابق تقسیم ہوتا ہے: ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ اسلام میں بیٹے کو زیادہ حصہ ملنے کے ساتھ زیادہ مالی ذمہ داریاں بھی عائد کی گئی ہیں، جبکہ بیٹی اپنی وراثت کی مکمل مالک ہوتی ہے۔
کیا بڑا بیٹا زیادہ حصہ لیتا ہے؟
یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ اسلامی شریعت میں بڑے، چھوٹے، شادی شدہ یا غیر شادی شدہ بیٹے کے درمیان وراثت کے حصے میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔
یاد رکھیں: وراثت کی تقسیم میں کسی بیٹے کو اس کی عمر، شادی، کاروبار، خدمت یا خاندانی حیثیت کی بنیاد پر زیادہ یا کم حصہ نہیں دیا جا سکتا۔
| صورتحال | شرعی حصہ |
|---|---|
| صرف ایک بیٹا | مقررہ حصوں کے بعد باقی ماندہ ترکہ بطور عصبہ |
| دو یا زیادہ بیٹے | باقی ماندہ ترکہ تمام بیٹوں میں برابر |
| بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہوں | ہر بیٹے کو دو حصے، ہر بیٹی کو ایک حصہ |
📖 مزید پڑھیں: بیٹے کا وراثت میں حصہ
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
بیوی کا وراثت میں حصہ کیا ہے؟
مختصر جواب
بیوی شرعی وارث ہے اور قرآنِ کریم نے اس کا حصہ واضح طور پر مقرر فرمایا ہے۔ اگر شوہر کی اولاد نہ ہو تو بیوی کو ترکہ کا چوتھائی (¼) حصہ ملتا ہے، اور اگر اولاد موجود ہو تو اس کا حصہ آٹھواں (⅛) ہو جاتا ہے۔
اہم شرعی اصول: بیوی کا شرعی حصہ شوہر کے انتقال کے بعد ترکہ سے ادا کیا جاتا ہے۔ اسے اس حق سے محروم کرنا یا اس کے حصے میں کمی بیشی کرنا شرعاً جائز نہیں۔
فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم
"اور اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہاری بیویوں کے لیے تمہارے چھوڑے ہوئے ترکہ میں آٹھواں حصہ ہے" (سورۃ النساء: 12)
اگر شوہر کی اولاد نہ ہو
بیوی کو ترکہ کا چوتھائی (¼) حصہ ملتا ہے۔
اگر شوہر کی اولاد موجود ہو
بیوی کا حصہ آٹھواں (⅛) ہوگا — خواہ اولاد اسی بیوی سے ہو یا کسی دوسری سے۔
اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں
تمام بیویاں مل کر ایک ہی شرعی حصہ حاصل کرتی ہیں جو آپس میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ بیوی کا حصہ صرف اپنی اولاد کی موجودگی سے نہیں بلکہ شوہر کی کسی بھی اولاد کی موجودگی سے متاثر ہوتا ہے۔
یاد رکھیں: مہر، نان و نفقہ اور وراثت تین الگ الگ شرعی حقوق ہیں۔ مہر کی ادائیگی یا بیوی کی مالی حیثیت اس کے وراثتی حصے پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔
| صورتحال | شرعی حصہ |
|---|---|
| شوہر کی اولاد نہ ہو | ¼ |
| شوہر کی اولاد موجود ہو | ⅛ |
| ایک سے زیادہ بیویاں ہوں | ¼ یا ⅛ — تمام بیویوں کا مشترکہ حصہ، برابر تقسیم |
📖 مزید پڑھیں: بیوی کا وراثت میں حصہ | متعدد بیویاں — وراثتی احکام
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
شوہر کا وراثت میں حصہ کیا ہے؟
مختصر جواب
شوہر شرعی وارث ہے اور قرآنِ کریم نے اس کا حصہ واضح طور پر مقرر فرمایا ہے۔ اگر بیوی کی اولاد نہ ہو تو شوہر کو ترکہ کا نصف (½) حصہ ملتا ہے، اور اگر اولاد موجود ہو تو اس کا حصہ چوتھائی (¼) ہو جاتا ہے۔
اہم شرعی اصول: شوہر کا شرعی حصہ صرف متوفیہ کی اولاد کی موجودگی یا عدم موجودگی سے متاثر ہوتا ہے۔
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ
"اور تمہارے لیے تمہاری بیویوں کے چھوڑے ہوئے ترکہ کا نصف ہے اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو، اور اگر ان کی اولاد ہو تو تمہارے لیے چوتھائی حصہ ہے۔" (سورۃ النساء: 12)
اگر بیوی کی اولاد نہ ہو
شوہر کو ترکہ کا نصف (½) حصہ ملتا ہے۔
اگر بیوی کی اولاد موجود ہو
شوہر کا حصہ چوتھائی (¼) ہوگا — خواہ اولاد موجودہ شوہر سے ہو یا کسی سابق نکاح سے۔
یاد رکھیں: شوہر کی مالی حیثیت، ملازمت، کاروبار یا ذاتی دولت اس کے شرعی وراثتی حصے پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔
| صورتحال | شرعی حصہ |
|---|---|
| بیوی کی اولاد نہ ہو | ½ |
| بیوی کی اولاد موجود ہو | ¼ |
📖 مزید پڑھیں: شوہر اور بیوی کے وراثتی احکام
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
والد کا وراثت میں حصہ کیا ہے؟
مختصر جواب
والد شرعی وارث ہیں اور اسلامی قانونِ وراثت میں ان کا مقام نہایت اہم ہے۔ اگر میت کی اولاد موجود ہو تو والد کو عموماً چھٹا حصہ (⅙) ملتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں وہ مقررہ حصہ لینے کے بعد باقی ماندہ ترکہ بھی بطور عصبہ حاصل کرتے ہیں۔
اہم شرعی اصول: والد کبھی صرف ذوی الفروض میں شامل ہوتے ہیں، کبھی ذوی الفروض اور عصبہ دونوں ہوتے ہیں، اور بعض صورتوں میں صرف عصبہ کی حیثیت سے باقی ماندہ ترکہ حاصل کرتے ہیں۔
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ
"اور اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے ترکہ کا چھٹا حصہ ہے۔" (سورۃ النساء: 11)
اگر میت کی اولاد موجود ہو
والد کو چھٹا حصہ (⅙) ملتا ہے۔
اگر میت کی اولاد موجود نہ ہو
والد مقررہ حصے کے علاوہ باقی ماندہ ترکہ بھی بطور عصبہ حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ دیگر شرعی اصول اس پر اثر انداز نہ ہوں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ والد اسلامی قانونِ وراثت میں ان چند ورثاء میں شامل ہیں جو بعض حالات میں مقررہ حصہ بھی حاصل کرتے ہیں اور باقی ماندہ ترکہ بھی۔
| صورتحال | شرعی حصہ |
|---|---|
| میت کی اولاد موجود ہو | ⅙ |
| میت کی اولاد نہ ہو | فقہی اصولوں کے مطابق مقررہ حصہ اور/یا باقی ماندہ ترکہ بطور عصبہ |
📖 مزید پڑھیں: والد کا وراثت میں حصہ
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
والدہ کا وراثت میں حصہ کیا ہے؟
مختصر جواب
والدہ شرعی وارث ہیں اور قرآنِ کریم نے ان کا حصہ واضح طور پر مقرر فرمایا ہے۔ اگر میت کی اولاد موجود ہو یا اس کے دو یا زیادہ بہن بھائی ہوں تو والدہ کو چھٹا حصہ (⅙) ملتا ہے۔ اگر نہ اولاد ہو اور نہ دو یا زیادہ بہن بھائی ہوں، تو والدہ کو عموماً تہائی (⅓) حصہ ملتا ہے۔
اہم شرعی اصول: والدہ کا حصہ صرف ان کی حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ میت کے دیگر شرعی ورثاء کی موجودگی کے مطابق مقرر ہوتا ہے۔
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ... فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ
"اگر میت کی اولاد ہو تو والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ پھر اگر اولاد نہ ہو اور صرف والدین ہی وارث ہوں تو والدہ کے لیے تہائی حصہ ہے، اور اگر بھائی بہن ہوں تو والدہ کے لیے چھٹا حصہ ہے۔" (سورۃ النساء: 11)
ثلث الباقی کیا ہے؟
دو مشہور صورتوں (عمریتین) میں — شوہر، والدہ اور والد، یا بیوی، والدہ اور والد — جمہور فقہاء کے نزدیک والدہ کو پورے ترکہ کا تہائی نہیں بلکہ باقی ماندہ ترکہ کا ایک تہائی (ثلث الباقی) ملتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ بعض حالات میں ایسے بہن بھائی جو خود وراثت نہ پائیں، ان کی موجودگی بھی والدہ کے حصے کو تہائی سے کم کرکے چھٹا حصہ کر دیتی ہے۔
| صورتحال | شرعی حصہ | نوٹ |
|---|---|---|
| میت کی اولاد موجود ہو | ⅙ | — |
| اولاد نہ ہو اور دو+ بہن بھائی بھی نہ ہوں | ⅓ | — |
| اولاد نہ ہو لیکن دو+ بہن بھائی موجود ہوں | ⅙ | — |
| عمریتین کی صورتیں | ثلث الباقی | باقی ماندہ ترکہ کا ایک تہائی |
📖 مزید پڑھیں: والدہ کا وراثت میں حصہ
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
بھائی بہن کا وراثت میں حصہ کیا ہے؟
مختصر جواب
بھائی اور بہن ہر صورت میں وارث نہیں بنتے۔ ان کا وراثتی حق اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ میت کے والد، اولاد یا دیگر قریبی شرعی ورثاء موجود ہیں یا نہیں۔
اہم شرعی اصول: بھائی بہن کا وراثتی حق ہمیشہ دیگر شرعی ورثاء کی موجودگی کو سامنے رکھ کر متعین کیا جاتا ہے۔
بھائی بہن کی اقسام
1۔ حقیقی بھائی اور حقیقی بہن
یہ وہ بہن بھائی ہیں جن کے والد اور والدہ دونوں مشترک ہوں۔
2۔ علاتی بھائی اور علاتی بہن
یہ وہ بہن بھائی ہیں جن کا والد ایک ہو لیکن والدہ مختلف ہو۔
3۔ اخیافی بھائی اور اخیافی بہن
یہ وہ بہن بھائی ہیں جن کی والدہ ایک ہو لیکن والد مختلف ہوں۔ قرآنِ کریم نے ان کے حصے الگ سے بیان کیے ہیں۔
حقیقی بہن کا حصہ
اگر میت کی اولاد اور والد نہ ہوں اور حقیقی بھائی بھی نہ ہو، تو ایک حقیقی بہن کو نصف (½) ملتا ہے۔ دو یا زیادہ حقیقی بہنیں مل کر دو تہائی (⅔) کی حق دار ہوتی ہیں۔ اگر حقیقی بھائی بھی موجود ہو تو ہر بھائی کو دو بہنوں کے برابر حصہ ملتا ہے۔
اخیافی بھائی بہن کا حصہ
ایک اخیافی بھائی یا بہن کو چھٹا حصہ (⅙) ملتا ہے۔ ایک سے زیادہ اخیافی بھائی بہن مل کر تہائی (⅓) کے حق دار ہوتے ہیں — اور اس حصے میں مرد اور عورت برابر شریک ہوتے ہیں (یہاں دوگنا اصول نافذ نہیں)۔
اہم فقہی نکتہ: اخیافی بھائی اور بہن ایک تہائی حصے میں برابر شریک ہوتے ہیں۔ یہاں مرد کو عورت پر دوگنا حصہ نہیں ملتا۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ اسلامی قانونِ وراثت میں والد کی موجودگی حقیقی اور علاتی بھائی بہن کو عموماً محجوب کر دیتی ہے۔
| صورتحال | شرعی حکم |
|---|---|
| والد یا بیٹا موجود ہو | حقیقی اور علاتی بھائی بہن عموماً محجوب ہو جاتے ہیں |
| ایک حقیقی بہن (بعض شرائط) | ½ |
| دو یا زیادہ حقیقی بہنیں | ⅔ (مشترکہ) |
| ایک اخیافی بھائی یا بہن | ⅙ |
| متعدد اخیافی بھائی بہن | ⅓ (برابر تقسیم) |
| حقیقی بھائی اور بہن ساتھ ہوں | ہر بھائی کو دو بہنوں کے برابر حصہ |
📖 مزید پڑھیں: بھائی بہن کا وراثت میں حصہ
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
عول، رد اور حجب کیا ہیں؟
مختصر جواب
عول، رد اور حجب اسلامی قانونِ وراثت کے تین بنیادی فقہی اصول ہیں۔ عول اس وقت ہوتا ہے جب مقررہ حصوں کا مجموعہ ترکہ سے زیادہ ہو جائے۔ رد اس وقت ہوتا ہے جب مقررہ حصے ادا کرنے کے بعد ترکہ کا کچھ حصہ بچ جائے اور کوئی عصبہ موجود نہ ہو۔ حجب اس اصول کو کہتے ہیں جس کے تحت ایک قریبی شرعی وارث کی موجودگی میں دور کا وارث وراثت سے محروم ہو جاتا ہے۔
اہم شرعی اصول: عول، رد اور حجب شرعی حصوں میں تبدیلی نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کو مختلف خاندانی حالات میں صحیح طریقے سے نافذ کرنے کے اصول ہیں۔
عول کیا ہے؟
عول اس وقت پیش آتا ہے جب تمام شرعی ورثاء کے مقررہ حصوں کو جمع کرنے پر مجموعہ ایک (1) سے زیادہ ہو جائے۔ تمام مقررہ حصوں میں متناسب کمی کی جاتی ہے تاکہ ہر وارث کو اس کے حصے کے تناسب سے حصہ مل جائے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ عول کا اصول حضرت عمر بن خطابؓ کے دورِ خلافت میں صحابۂ کرامؓ کے اجماع سے نافذ کیا گیا، اور آج چاروں سنی فقہی مذاہب اسے تسلیم کرتے ہیں۔
رد کیا ہے؟
رد اس وقت ہوتا ہے جب تمام ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصے دے دیے جائیں، لیکن ترکہ کا کچھ حصہ پھر بھی باقی رہ جائے، اور کوئی عصبہ موجود نہ ہو۔ اس صورت میں باقی ماندہ ترکہ بعض ذوی الفروض میں ان کے حصوں کے تناسب سے واپس تقسیم کیا جاتا ہے۔
فقہی نوٹ: رد کے مسئلے میں بعض فقہی مذاہب کے درمیان جزوی اختلافات موجود ہیں، خصوصاً شوہر اور بیوی پر رد کے اطلاق کے حوالے سے۔ FaraidHub Calculator منتخب فقہی مسلک کے مطابق درست حساب فراہم کرتا ہے۔
حجب کیا ہے؟
حجب کا مطلب ہے کسی وارث کا کسی زیادہ قریبی وارث کی موجودگی کی وجہ سے مکمل یا جزوی طور پر وراثت سے محروم ہو جانا۔
حجبِ حرمان
اس میں کوئی وارث مکمل طور پر وراثت سے محروم ہو جاتا ہے۔ مثال: والد کی موجودگی میں حقیقی بھائی۔
حجبِ نقصان
اس میں وارث مکمل محروم نہیں ہوتا لیکن اس کا حصہ کم ہو جاتا ہے: اولاد کی موجودگی میں شوہر کا حصہ ½ سے کم ہو کر ¼ ہو جاتا ہے، بیوی کا حصہ ¼ سے ⅛، والدہ کا حصہ ⅓ سے ⅙۔
یاد رکھیں: حجب ناانصافی نہیں بلکہ اسلامی قانونِ وراثت کا بنیادی اصول ہے، جس کے تحت قریب ترین رشتہ دار کو ترجیح دی جاتی ہے۔
| اصول | مطلب |
|---|---|
| عول | مقررہ حصے ترکہ سے زیادہ ہو جائیں تو تناسب کے ساتھ کمی کی جاتی ہے |
| رد | مقررہ حصوں کے بعد ترکہ بچ جائے اور کوئی عصبہ نہ ہو تو باقی ترکہ واپس تقسیم ہوتا ہے |
| حجب | قریبی وارث کی موجودگی میں دور کا وارث مکمل یا جزوی طور پر محروم ہو جاتا ہے |
📖 مزید پڑھیں: عول کیا ہے؟ | رد کیا ہے؟ | حجب کیا ہے؟ | اسلامی وراثت میں محجوب ورثاء
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
چاروں سنی فقہی مذاہب میں وراثت کے اہم اختلافات
مختصر جواب
اسلامی وراثت کے بنیادی احکام چاروں سنی فقہی مذاہب میں یکساں ہیں، کیونکہ ان کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ پر ہے۔ اختلاف صرف چند مخصوص فقہی مسائل میں پایا جاتا ہے۔
اہم شرعی اصول: چاروں سنی فقہی مذاہب قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کو بنیاد مانتے ہیں۔ اختلاف صرف بعض اجتہادی مسائل میں ہے، نہ کہ وراثت کے بنیادی احکام میں۔
کن مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے؟
- دادا کی موجودگی میں حقیقی بھائیوں کا حکم
- ذوی الارحام کی وراثت
- رد (Radd) کے بعض مسائل
- مشترکہ (حماریہ) کے بعض مقدمات
- حمل، مفقود الخبر اور خنثیٰ کے بعض فقہی احکام
کیا آپ جانتے ہیں؟ اسلامی وراثت کے زیادہ تر معاملات میں چاروں سنی فقہی مذاہب کا نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے۔ اختلاف صرف نسبتاً کم اور پیچیدہ معاملات میں سامنے آتا ہے۔
| موضوع | چاروں سنی مذاہب کا موقف |
|---|---|
| بنیادی قرآنی حصے | مکمل اتفاق |
| قرض اور وصیت کی ترتیب | مکمل اتفاق |
| ذوی الفروض اور عصبہ کے بنیادی اصول | مکمل اتفاق |
| دادا اور بھائیوں کا مسئلہ | بعض اختلافات |
| رد کے بعض احکام | بعض اختلافات |
| ذوی الارحام | بعض اختلافات |
یاد رکھیں: اگر آپ کو معلوم نہ ہو کہ کس فقہی مسلک کے مطابق وراثت تقسیم کی جائے، تو اپنے علاقے کے مستند عالمِ دین یا مفتی سے رہنمائی حاصل کریں۔
📖 مزید پڑھیں: حنفی فقہ میں وراثت کے احکام | شافعی فقہ میں وراثت کے احکام | مالکی فقہ میں وراثت کے احکام | حنبلی فقہ میں وراثت کے احکام | چاروں مذاہب کا تقابلی جائزہ
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
اسلامی وصیت اور وراثت میں کیا فرق ہے؟
مختصر جواب
وصیت اور وراثت دو الگ شرعی احکام ہیں۔ وصیت ایک شخص اپنی زندگی میں کرتا ہے جبکہ وراثت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ نظام ہے جو وفات کے بعد خود بخود نافذ ہو جاتا ہے۔
اہم شرعی اصول: وصیت وراثت کا متبادل نہیں ہے۔ شرعی ورثاء کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں، اس لیے وصیت کے ذریعے ان میں کمی یا بیشی نہیں کی جا سکتی۔
وصیت کی شرعی حدود
1۔ ایک تہائی کی حد
وصیت ترکہ کے ایک تہائی (⅓) سے زیادہ نہیں ہو سکتی، الا یہ کہ تمام بالغ شرعی ورثاء وفات کے بعد رضامندی سے اس کی اجازت دیں۔
2۔ شرعی وارث کے حق میں وصیت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی وارث کے لیے وصیت نہیں۔"
اسی لیے کسی ایسے شخص کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی جو پہلے ہی شرعی وارث ہو۔
3۔ اسلامی ترتیب
① تجہیز و تکفین ← ② قرض کی ادائیگی ← ③ جائز وصیت ← ④ وراثت کی تقسیم
کیا آپ جانتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اپنی پوری جائیداد کسی ایک فرد کے نام وصیت کر دے، تو ایسی وصیت مکمل طور پر نافذ نہیں ہوگی۔ شریعت صرف مقررہ حدود کے اندر وصیت کو نافذ کرتی ہے۔
| وصیت | وراثت |
|---|---|
| زندگی میں کی جاتی ہے | وفات کے بعد نافذ ہوتی ہے |
| اختیاری عمل ہے | شرعی طور پر لازم نظام ہے |
| عام طور پر ایک تہائی تک محدود | پورے باقی ماندہ ترکہ پر نافذ |
| شرعی وارث کے حق میں نہیں | شرعی ورثاء کا اللہ کا مقرر کردہ حق |
| حدود شریعت کے تابع | قرآن و سنت کے مطابق مکمل |
📖 مزید پڑھیں: اسلامی وصیت کے مکمل احکام | وصیت کی ایک تہائی کی حد | کیا وارث کے حق میں وصیت کی جا سکتی ہے؟
اسلامی وصیت اور فرائض کیلکولیٹر — دونوں مفت
اپنی وراثت کا شرعی حساب لگائیں اور شریعت کے مطابق اسلامی وصیت بھی تیار کریں۔
اسلامی وراثت کے بارے میں عام سوالات
وراثت کی تقسیم کے بارے میں مسلمانوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ذیل میں اسلامی قانونِ وراثت سے متعلق عام اور اہم سوالات کے مختصر، مستند اور آسان جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔
📖 مزید پڑھیں: وراثت کی تقسیم کا مکمل طریقہ | اسلامی وصیت کے احکام | عول کیا ہے؟ | رد کیا ہے؟ | حجب کیا ہے؟ | اسلامی فرائض کیلکولیٹر استعمال کرنے کا طریقہ
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ←
نتیجہ: اسلامی وراثت کو صحیح طریقے سے سمجھنا کیوں ضروری ہے؟
اسلامی وراثت کا نظام دنیا کے جامع ترین مالی اور خاندانی قوانین میں سے ایک ہے۔ یہ صرف جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ نہیں، بلکہ عدل، ذمہ داری، خاندانی حقوق اور معاشرتی انصاف پر مبنی ایک مکمل شرعی نظام ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ کریم میں نازل فرمایا ہے۔
اسی لیے وراثت کی تقسیم کسی خاندان کی روایت، ذاتی پسند، معاشرتی دباؤ یا مقامی رسم و رواج کے مطابق نہیں، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
اس رہنمائی میں ہم نے ان موضوعات کا جائزہ لیا:
- وراثت کی تقسیم کا مفہوم اور اہمیت
- قرآنِ کریم میں وراثت کے احکام
- ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے ادا کیے جانے والے حقوق
- شرعی ورثاء اور ان کے مقررہ حصے
- بیٹے، بیٹی، شوہر، بیوی، والد، والدہ اور بھائی بہن کے احکام
- عول، رد اور حجب جیسے اہم فقہی اصول
- چاروں سنی فقہی مذاہب کے نمایاں اجتہادی اختلافات
- اسلامی وصیت اور وراثت کے درمیان فرق
- وراثت سے متعلق عام سوالات اور ان کے مختصر جوابات
اہم یاددہانی: اسلامی وراثت میں معمولی سی غلطی بھی کسی وارث کے حق میں کمی یا زیادتی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ مکمل خاندانی معلومات کی بنیاد پر شرعی تقسیم کا حساب لگائیں۔
تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
"یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں... اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔" (سورۃ النساء: 13)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام کو صحیح طور پر سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
FaraidHub آپ کی کس طرح مدد کرتا ہے؟
FaraidHub صرف ایک وراثتی کیلکولیٹر نہیں، بلکہ اسلامی قانونِ وراثت کے لیے ایک جامع علمی مرکز ہے — faraidhub.com
- مختلف خاندانی صورتحال کے مطابق شرعی تقسیم معلوم کریں
- ہر وارث کے حصے کی تفصیلی وضاحت پڑھیں
- اسلامی وصیت کے احکام سمجھیں
- عول، رد اور حجب جیسے پیچیدہ اصول آسان مثالوں کے ساتھ سیکھیں
- مختلف فقہی مذاہب کے مطابق حساب حاصل کریں
- وراثت سے متعلق درجنوں تفصیلی مضامین سے رہنمائی حاصل کریں
متعلقہ مضامین (مزید رہنمائی)
اگر آپ اسلامی وراثت کے کسی مخصوص موضوع کے بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں، تو درج ذیل رہنمائیاں آپ کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔
بنیادی رہنمائیاں
علم الفرائض کیا ہے؟ · وراثت کی تقسیم کا مکمل طریقہ · قرآنِ کریم میں وراثت کے احکام · اسلامی قانونِ وراثت کی بنیادی اصطلاحات · شرعی ورثاء کون ہوتے ہیں؟
ہر وارث کے حصے
بیٹے کا وراثت میں حصہ · بیٹی کا وراثت میں حصہ · شوہر کا وراثت میں حصہ · بیوی کا وراثت میں حصہ · والد کا وراثت میں حصہ
والدہ کا وراثت میں حصہ · حقیقی بھائی اور بہن کا وراثت میں حصہ · علاتی بھائی اور بہن کے احکام · اخیافی بھائی اور بہن کے احکام
نوٹ: دادا، دادی، پوتے اور نواسوں کے علیحدہ مضامین جلد شامل ہوں گے۔
اسلامی وصیت
اسلامی وصیت کے مکمل احکام · وصیت کی ایک تہائی کی حد · کیا وارث کے حق میں وصیت کی جا سکتی ہے؟ · وصیت اور وراثت میں فرق · وصیت اور ہبہ میں کیا فرق ہے؟
پیچیدہ فقہی مسائل
عول کیا ہے؟ · رد کیا ہے؟ · حجب کیا ہے؟ · محجوب ورثاء کی مکمل فہرست · ذوی الفروض کون ہیں؟
عصبہ کون ہیں؟ · ذوی الارحام کون ہیں؟ · کلالہ کیا ہے؟ · عمریتین (العُمَریتان) کیا ہیں؟ · مشترکہ (حماریہ) کا مسئلہ
فقہی مذاہب
حنفی فقہ میں وراثت کے احکام · شافعی فقہ میں وراثت کے احکام · مالکی فقہ میں وراثت کے احکام · حنبلی فقہ میں وراثت کے احکام · دادا اور بھائیوں کی وراثت: چاروں مذاہب کا تقابلی جائزہ
عملی رہنمائی
اسلامی وراثت کا حساب کیسے لگائیں؟ · فرائض کیلکولیٹر استعمال کرنے کا طریقہ · وراثت تقسیم کرتے وقت عام غلطیاں · بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا: شرعی حکم
کیا جہیز وراثت کا متبادل ہے؟ · اگر ورثاء میں اختلاف ہو جائے تو کیا کریں؟ · غیر منقسم جائیداد کا شرعی حل · مشترکہ خاندانی جائیداد کی تقسیم
FaraidHub کے مفت اسلامی ٹولز
- 🧮 اسلامی فرائض کیلکولیٹر
- 📝 اسلامی وصیت (Will) جنریٹر
- 💰 زکوٰۃ کیلکولیٹر
- 🏦 جنوبی افریقہ اسٹیٹ ڈیوٹی کیلکولیٹر
FaraidHub کا مقصد صرف وراثتی حساب فراہم کرنا نہیں بلکہ اسلامی قانونِ وراثت کے بارے میں مستند، جامع اور آسان رہنمائی فراہم کرنا ہے، تاکہ ہر مسلمان اعتماد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے مطابق اپنے مالی معاملات انجام دے سکے۔
اہم شرعی تنبیہ
یہ رہنمائی اسلامی وراثت کے اصولوں کو آسان انداز میں سمجھانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ پیچیدہ یا اختلافی معاملات میں کسی مستند مفتی یا اہلِ علم سے شرعی رہنمائی حاصل کرنا مناسب ہے، خصوصاً جب معاملہ عدالت، بین الاقوامی قوانین، خاندانی تنازع یا بڑی مالی جائیداد سے متعلق ہو۔
🧮 مفت فرائض کیلکولیٹر استعمال کریں ← | اسلامی وصیت جنریٹر (مفت)